سر کار پیر شاہ عیسیٰ ؒ قتال بلوٹی
حضرت شاہ عیسیٰ ؒ کی متبرک و مقدس ہستی خدا وند عالم کی بے شمار نعمتوں و فضیلتوں ، کرامتوں اور رفعتوں کا شاہکار تھی ۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے ۔ کیونکہ آپ ؒ کے دادا شاہ عبدالوہاب ؒ نے ایسی انقلابی تحریک پیش کی جسکی بنیاد عبادت و رضاالہی تھی۔اس تحریک نے آپ کے اہل و عیال پر بھی گہرا اثر کیا ۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں اوچ شریف بہاول پور سے ہجرت سامنے آئی ۔ بلوٹ شریف پہنچ کر عبادت کے سوا ہندومت کے اس عظیم تاریخی ، ثقافتی شہرمیں ہندوراج تھا ۔ گوشہ نشینی اور عبادت کے سوا انکا یہاں کوئی مقصد و حجت نہ تھی اور نہ ہی ماحول ایسا تھا کہ یہاں دیگر تجارتی سرگرمیاں ناممکن تھیں ۔کوئی عبادت الہی کے 36/30سالوں میں حضرت شاہ عبدالوہاب ؒ انکے بیٹے انکی بیوی روزو شب مصروف تھے۔ انبیاء و مرسلین آئمہ اہلبیت ؑ اولیا ء اللہ سے ہی مراقبے جاری و ساری رہے ۔ سادہ خواب کامل مراقبے الہی اشارے اور کتاب مبین کی رہنمائی ذکر و فکر سے ہی ثقافت و تجارت وابستہ رہی۔کہ اسی روحانی دینی ماحول میں دسویں ہجری میں حضرت شاہ عیسیٰ ؒ کی پیدائش ہوئی۔آپکی دادی حضرت شاہ جنیدؒ کے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز کی دختر تھی۔جو خود بھی بلند پایہ کی عاملہ ، کاملہ اور فاضلہ تھیں ۔ اور آپکی والدہ ماجدہ سید رکن الدین کے بیٹے سید حامد کی دختر تھیں۔ جو خود بھی مشہور زمانہ اولیاء اللہ تھے ۔تو گویا حضرت شاہ عیسیٰ ؒ مادری ،پدری ولی اللہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت شاہ عبدالوہاب ؒ کو دستار نبوی ﷺ عطاء ہوئی اور ایک معجزاتی نماز باجماعت قائم ہوئی تو اس وقت آپ کا سنِ مبارک تین یا چارسال تھا ۔ مگر آپ کو پہلی صف میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اور اصحابی رسولﷺ ہونے کے علاوہ صاحب اکرام بھی بنے۔
No comments:
Post a Comment